i آئی این پی ویلتھ پی کے

خدمات کے شعبے میں فاضل توازن سے مئی میں پاکستان کا تجارتی خسارہ مزید کم ہوگیا،ویلتھ پاکستانتازترین

July 02, 2026

مئی 2026 کے دوران سروسز کے شعبے میں مسلسل فاضل توازن برقرار رہنے کے باعث پاکستان کے اشیا اور خدمات کے مجموعی تجارتی خسارے میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی جس نے اشیا کی تجارت میں بڑے خسارے کے اثرات کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد دی۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق مئی میں اشیا اور خدمات کا مجموعی تجارتی خسارہ کم ہو کر 3 ارب 29 کروڑ ڈالر رہ گیاجو اپریل میں 3 ارب 34 کروڑ ڈالر تھا۔رپورٹ کے مطابق اگرچہ برآمدی آمدنی میں کمی آئی، تاہم درآمدات میں کمی اور خدمات کی برآمدات سے حاصل ہونے والی بہتر آمدنی کے باعث بیرونی شعبے پر دبا میں کچھ کمی آئی۔اعدادوشمار کے مطابق مئی میں اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات 3 ارب 21 کروڑ ڈالر رہیں جو اپریل میں 3 ارب 52 کروڑ ڈالر تھیں۔ اسی دوران مجموعی درآمدات بھی 6 ارب 86 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر 6 ارب 50 کروڑ ڈالر رہ گئیں جس سے مجموعی تجارتی توازن میں معمولی بہتری آئی۔اشیا کی تجارت بدستور بیرونی کھاتوں پر دبا کا سب سے بڑا سبب رہی۔ مئی میں اشیا کی برآمدات 2 ارب 37 کروڑ ڈالر رہیں جو ایک ماہ قبل 2 ارب 62 کروڑ ڈالر تھیں جبکہ درآمدات 5 ارب 99 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر 5 ارب 69 کروڑ ڈالر رہ گئیں۔

اس طرح اشیا کی تجارت کا خسارہ بدستور 3 ارب 32 کروڑ ڈالر کی بلند سطح پر برقرار رہا۔اس کے برعکس خدمات کے شعبے میں مسلسل تیسرے ماہ بھی فاضل توازن برقرار رہا۔ مئی میں خدمات کی برآمدات 83 کروڑ 70 لاکھ ڈالر جبکہ درآمدات 80 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہیں جس کے نتیجے میں 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا فاضل توازن حاصل ہوا۔ اگرچہ یہ مارچ اور اپریل کے مقابلے میں کم تھا، تاہم اس نے ملک کی بیرونی مالی پوزیشن کو سہارا فراہم کیا۔انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ سروسز خدمات کی برآمدات کا سب سے بڑا ذریعہ رہیں۔ مواصلات، کمپیوٹر اور معلوماتی خدمات سے مئی کے دوران 37 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی برآمدی آمدنی حاصل ہوئی جو خدمات کی مجموعی برآمدات کا تقریبا 45 فیصد بنتی ہے۔ دیگر کاروباری خدمات سے 17 کروڑ 40 لاکھ ڈالر جبکہ سرکاری اشیا و خدمات کی برآمدات سے 8 کروڑ 30 لاکھ ڈالر حاصل ہوئے۔سفری خدمات سے 11 کروڑ 60 لاکھ ڈالر جبکہ نقل و حمل کی خدمات سے 6 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی برآمدی آمدنی حاصل ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق ان شعبوں نے خدمات کی برآمدات کو وسعت دینے اور روایتی اشیا کی برآمدات کے علاوہ زرمبادلہ کے نئے ذرائع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔درآمدات میں نقل و حمل کی خدمات سب سے بڑا حصہ رہیں جن پر 36 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے جو بین الاقوامی تجارت سے وابستہ جہاز رانی اور رسد کے اخراجات کی عکاسی کرتے ہیں۔

سفری خدمات کی درآمدات 13 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہیں جبکہ دیگر کاروباری خدمات اور مواصلات، کمپیوٹر و معلوماتی خدمات کی درآمدات بالترتیب 10 کروڑ 30 لاکھ اور 5 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تازہ اعدادوشمار بیرونی شعبے پر دبا کم کرنے میں خدمات کی برآمدات کے بڑھتے ہوئے کردار کو نمایاں کرتے ہیں۔ اگرچہ اشیا کی تجارت کا خسارہ بدستور نمایاں ہے، تاہم اطلاعاتی ٹیکنالوجی، کاروباری اور سفری خدمات سے حاصل ہونے والی آمدنی نے اس کے منفی اثرات کو کسی حد تک متوازن رکھا۔تقابلی جائزے کے مطابق اشیا اور خدمات کا مجموعی تجارتی خسارہ دسمبر 2025 کے 3 ارب 39 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر اپریل 2026 میں 3 ارب 34 کروڑ ڈالر رہ گیا، تاہم یہ مارچ 2026 کے 2 ارب 31 کروڑ ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر زیادہ ہے جب درآمدات اور اشیا کے تجارتی خسارے کی سطح نسبتا کم تھی۔رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر اشیا کی تجارت کا خسارہ اگرچہ بیرونی کھاتوں پر دبا کا باعث بنا رہا، تاہم خدمات کے شعبے میں مسلسل فاضل توازن نے مجموعی تجارتی خسارے کو محدود رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر خدمات کی برآمدات نے بیرونی شعبے کو سہارا دینے اور تجارتی توازن کو نسبتا بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک