تازہ ترین ہائوس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کے مطابق پاکستان میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اوسط گھریلو آمدن تقریبا دگنی ہو گئی ہے۔ 202425 میں ماہانہ اوسط گھریلو آمدن 82,179 روپے ریکارڈ کی گئی، جو 201819 میں 41,545 روپے تھی۔ یہ اضافہ ملک بھر میں معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے زیرِ اہتمام کیے گئے اس سروے کے مطابق شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں گھریلو آمدن میں تقریبا 98 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آمدن میں اضافہ کسی ایک مخصوص علاقے یا طبقے تک محدود نہیں رہا بلکہ وسیع پیمانے پر ہوا ہے۔ آمدن میں اضافے کے ساتھ ساتھ گھریلو اخراجات میں بھی نمایاں وسعت دیکھی گئی ہیجو پاکستانی گھرانوں کی خریداری کی صلاحیت میں بہتری کو ظاہر کرتی ہے۔اوسط ماہانہ گھریلو اخراجات 201819 میں 37,159 روپے سے بڑھ کر 202425 میں 79,150 روپے ہو گئے ہیں جو اس عرصے میں 113 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق گھرانے خوراک، رہائش، توانائی، ٹرانسپورٹ اور مختلف خدمات سمیت ضروری اور غیر ضروری دونوں اقسام کی اشیا پر زیادہ خرچ کر رہے ہیں جو زندگی کے حالات میں بتدریج بہتری کی علامت ہے۔سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ آمدن میں اضافے کے باعث بہتر معیار کی خوراک، رہائشی سہولیات میں بہتری اور بنیادی سہولیات تک زیادہ رسائی ممکن ہوئی ہے۔
اگرچہ خوراک اب بھی گھریلو اخراجات کا بڑا حصہ ہے تاہم اب دیگر اشیا پر خرچ ہونے والا حصہ بھی بڑھ رہا ہیجو خریداری کی قوت میں اضافے کے ساتھ استعمال کے رجحانات میں بتدریج تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق تمام آمدنی کے طبقات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ زیادہ آمدن والے گھرانوں میں رقم کے لحاظ سے اضافہ زیادہ رہا، تاہم کم آمدن والے گھرانوں کو بھی خاطر خواہ فائدہ ہوا ہے۔ یہ رجحان اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ آمدن میں اضافہ معاشرے کے کسی ایک محدود طبقے تک محدود نہیں رہا۔سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بہتر آمدنی کے ساتھ بجلی، صاف پانی اور مواصلاتی سہولیات جیسی خدمات تک رسائی میں اضافہ ہوا ہے جس سے مجموعی معیارِ زندگی بہتر ہوا ہے۔ تعلیم، صحت اور یوٹیلیٹیز پر گھریلو اخراجات میں اضافہ بھی اس بات کی واضح مثال ہے کہ آمدن میں اضافے کا براہِ راست تعلق زندگی کے بہتر معیار سے ہے۔پاکستان کے پہلے مکمل طور پر ڈیجیٹل گھریلو سروے 202425 میں ملک بھر کے تقریبا 32 ہزار گھرانوں کا احاطہ کیا گیا ہے اور یہ آمدن اور اخراجات کے رجحانات کی جامع تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ سروے پالیسی سازی، غربت کے جائزے اور ترقیاتی منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔تازہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ برسوں میں معاشی چیلنجز کے باوجود گھریلو آمدن میں نمایاں استحکام رہا ہیجس سے معیارِ زندگی میں بتدریج بہتری آئی ہے اور مستقبل کی معاشی و سماجی منصوبہ بندی کے لیے اہم رہنمائی ملتی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک