مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی بڑی فصلوں کی کارکردگی مجموعی طور پر حوصلہ افزا رہی جبکہ گندم، چاول اور گنے کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کرنے کے ساتھ مقررہ ہدف سے بھی قریب یا اس سے زیادہ رہی۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سالانہ منصوبہ 2026-27 کے مطابق ملک کی بنیادی غذائی فصل گندم کی پیداوار میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ زیرِ کاشت رقبہ گزشتہ سال کے 90 لاکھ 74 ہزار ہیکٹر سے بڑھ کر 94 لاکھ 78 ہزار ہیکٹر ہو گیا جبکہ پیداوار 4.3 فیصد اضافے کے ساتھ 2 کروڑ 96 لاکھ 5 ہزار ٹن تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال 2 کروڑ 83 لاکھ 96 ہزار ٹن تھی۔ گندم کی پیداوار سرکاری ہدف 2 کروڑ 96 لاکھ 78 ہزار ٹن کے بھی انتہائی قریب رہی جو زرعی شعبے کو درپیش مشکلات کے باوجود بہتر نتائج کی عکاسی کرتی ہے۔چاول کی فصل نے بھی حوصلہ افزا نتائج دیے۔ اگرچہ زیرِ کاشت رقبہ 3.6 فیصد کمی کے بعد 37 لاکھ 59 ہزار ہیکٹر رہ گیا تاہم پیداوار 2.8 فیصد بڑھ کر 99 لاکھ 98 ہزار ٹن تک پہنچ گئی جو گزشتہ مالی سال میں 97 لاکھ 23 ہزار ٹن تھی۔ اس طرح چاول کی پیداوار 91 لاکھ 70 ہزار ٹن کے مقررہ ہدف سے بھی زیادہ رہی جس سے بہتر پیداوار اور مثر زرعی انتظامات کا اظہار ہوتا ہے۔گنا بڑی فصلوں میں سب سے نمایاں کارکردگی دکھانے والی فصل ثابت ہوا۔ اس کا زیرِ کاشت رقبہ 2.4 فیصد بڑھ کر 12 لاکھ 22 ہزار ہیکٹر ہو گیا جبکہ پیداوار 6.2 فیصد اضافے سے 8 کروڑ 94 لاکھ 50 ہزار ٹن تک جا پہنچی جو ایک سال قبل 8 کروڑ 42 لاکھ 38 ہزار ٹن تھی۔ یہ پیداوار 8 کروڑ 3 لاکھ 20 ہزار ٹن کے مقررہ ہدف سے کہیں زیادہ رہی جو اس شعبے کی مضبوط ترقی کی نشاندہی کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان اہم فصلوں کی بہتر کارکردگی سے پاکستان کے زرعی شعبے کی مضبوطی ظاہر ہوتی ہے جس سے نہ صرف غذائی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی بلکہ زرعی خام مال پر انحصار کرنے والی صنعتوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ خصوصا گندم اور چاول کی بہتر پیداوار غذائی تحفظ کے لیے اہم قرار دی گئی ہے جبکہ گنے کی زیادہ پیداوار سے چینی اور متعلقہ صنعتوں کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔دوسری جانب مکئی اور کپاس کو نسبتا مشکلات کا سامنا رہا۔ مکئی کا زیرِ کاشت رقبہ تقریبا گزشتہ سال کی سطح پر 15 لاکھ 87 ہزار ہیکٹر رہا، تاہم پیداوار 2.7 فیصد کمی کے بعد 87 لاکھ 94 ہزار ٹن رہ گئی جو گزشتہ سال 90 لاکھ 37 ہزار ٹن تھی۔ یہ پیداوار 97 لاکھ 75 ہزار ٹن کے مقررہ ہدف سے کم رہی۔کپاس کی فصل بھی مشکلات سے دوچار رہی۔ اس کا زیرِ کاشت رقبہ 1.5 فیصد کمی کے بعد 20 لاکھ 12 ہزار ہیکٹر رہ گیا جبکہ پیداوار معمولی کمی کے ساتھ 70 لاکھ 52 ہزار گانٹھیں ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال 70 لاکھ 84 ہزار گانٹھیں تھی۔ یہ پیداوار ایک کروڑ 1 لاکھ 28 ہزار گانٹھوں کے مقررہ ہدف سے خاصی کم رہی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ مکئی اور کپاس کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہ رہی تاہم گندم، چاول اور گنے کی بہتر پیداوار نے ان کمزوریوں کا بڑی حد تک ازالہ کیا جس کے باعث مالی سال 2025-26 کے دوران زرعی شعبے کی مجموعی تصویر مثبت رہی۔تقابلی جائزے کے مطابق گندم اور گنے میں زیرِ کاشت رقبے اور پیداوار دونوں میں اضافہ ہوا جبکہ چاول نے کم رقبے کے باوجود زیادہ پیداوار حاصل کی جو بعض فصلوں میں بہتر پیداواری صلاحیت اور مختلف حالات میں بھی زرعی شعبے کی ترقی برقرار رکھنے کی استعداد کو ظاہر کرتا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک