i آئی این پی ویلتھ پی کے

اسلامی بینکاری کا شعبہ تیزی سے مستحکم، 2027 کے بعد سود سے پاک مالیاتی نظام کی منتقلی کی تیاریوں کو تقویت،ویلتھ پاکستانتازترین

July 13, 2026

پاکستان میں اسلامی بینکاری کا شعبہ مسلسل ترقی کر رہا ہے اور 2027 کے بعد سود سے پاک مالیاتی نظام کی جانب متوقع منتقلی سے قبل اپنی اہمیت مزید مستحکم کر رہا ہے۔ ویلتھ پاکستان کو دستیاب "2027 کے بعد پاکستان کا مالیاتی نظام" سے متعلق حکمتِ عملی دستاویز کے مطابق اسلامی بینکاری پاکستان کے مالیاتی نظام کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے اور شریعت کے مطابق مالیاتی خدمات حاصل کرنے کے خواہشمند افراد اور کاروباری اداروں کی ضروریات پوری کرنے میں اس کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں اس وقت دوہرا مالیاتی نظام رائج ہے جہاں روایتی اور اسلامی بینکاری کے ادارے بیک وقت کام کر رہے ہیں۔ یہ نظام 2000 کی دہائی کے آغاز میں متعارف کرایا گیا تھا تاکہ عوام اور کاروباری اداروں کو اپنی تجارتی ضروریات اور مذہبی ترجیحات کے مطابق روایتی یا اسلامی مالیاتی اداروں کے انتخاب کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ حکمتِ عملی کے مطابق اسلامی بینکاری اس وقت ملک کے مجموعی بینکاری ذخائر کا 28 فیصد، مجموعی مالی سہولتوں کا 38 فیصد اور بینکاری شعبے کے کل اثاثوں کا 23 فیصد حصہ رکھتی ہے جو اس شعبے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔ دستاویز کے مطابق ملک میں اس وقت سات مکمل اسلامی بینک جبکہ 16 روایتی بینک اپنی مخصوص اسلامی شاخوں کے ذریعے شریعت کے مطابق بینکاری خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ دسمبر 2025 کے اختتام تک اسلامی بینکاری کے مجموعی اثاثے 14 ہزار 467 ارب روپے جبکہ ذخائر 11 ہزار 37 ارب روپے تک پہنچ گئے جو اس شعبے کی مسلسل توسیع کا ثبوت ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے بینکاری شعبے میں مجموعی طور پر 33 بینک کام کر رہے ہیں جن میں سرکاری، نجی، غیر ملکی اور حال ہی میں کام شروع کرنے والے تین ڈیجیٹل بینک بھی شامل ہیں۔ دسمبر 2025 کے اختتام تک بینکوں اور چھوٹے قرض فراہم کرنے والے بینکوں کی شاخوں کی تعداد 20 ہزار 214 ہو چکی تھی جبکہ نئی شاخوں اور متبادل مالیاتی ذرائع کے فروغ سے مالیاتی خدمات تک عوام کی رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔ حکمتِ عملی میں کہا گیا ہے کہ معاشی دبا اور پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان کا بینکاری نظام مضبوط اور مستحکم رہا ہے۔ شعبے نے مختلف معاشی بحرانوں کے دوران بھی قرضوں اور مالیاتی خدمات کی فراہمی جاری رکھی جبکہ دسمبر 2025 تک بینکاری شعبے کا سرمایہ جاتی کفایت کا تناسب 20.8 فیصد رہا جو ملکی اور عالمی کم از کم تقاضوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ ممکنہ نقصانات کے لیے مختص رقوم کی شرح 100 فیصد سے زائد رہی اور منافع بخش کارکردگی بھی برقرار رہی۔ دستاویز کے مطابق اسلامی بینکاری کا شعبہ بھی مالی لحاظ سے مضبوط رہا۔ اسلامی بینکوں میں ناقص مالی سہولتوں کا تناسب مجموعی مالی سہولتوں کے مقابلے میں صرف 2.4 فیصد ریکارڈ کیا گیا جو اثاثوں کے بہتر معیار اور کم قرض جاتی خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔ ممکنہ نقصانات کے لیے مختص رقوم کی شرح 100 فیصد سے زائد رہی جبکہ صکوک میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری سے شعبے کی مالی روانی مزید بہتر ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 کے اختتام تک اسلامی بینکوں کا سرمایہ جاتی کفایت کا تناسب 17.5 فیصد رہا جو مقررہ کم از کم حد سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اسلامی بینکاری کے مالیاتی اشاریے کئی معاملات میں روایتی بینکوں سے بھی بہتر رہے جس سے پاکستان کے مجموعی بینکاری نظام کے استحکام کو تقویت ملی۔ حکمتِ عملی کے مطابق بینکاری شعبہ پاکستان کے مالیاتی نظام پر غالب حیثیت رکھتا ہے اور مالیاتی شعبے کے مجموعی اثاثوں کا تقریبا 79.3 فیصد، یعنی 63 ہزار 231 ارب روپے اسی شعبے کے پاس ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے زیرِ نگرانی اداروں کے پاس مجموعی مالیاتی شعبے کے تقریبا 83 فیصد اثاثے موجود ہیں جو مالیاتی لین دین، ادائیگیوں کے نظام اور بین الاقوامی تجارت میں بینکوں کے مرکزی کردار کو ظاہر کرتے ہیں۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اسلامی بینکاری کی مسلسل ترقی 2027 کے بعد سود سے پاک مالیاتی نظام کے قیام کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔ شعبے کا بڑھتا ہوا حجم، مستحکم مالیاتی اشاریے اور بڑھتی ہوئی عملی استعداد ملک کو شریعت سے ہم آہنگ مالیاتی نظام کی جانب بتدریج منتقلی میں مدد دیں گے جبکہ مجموعی مالیاتی استحکام بھی برقرار رہے گا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک