وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اعتدال اور اقتصادی اصلاحات کے تسلسل کے باعث مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار مزید بہتر ہونے کی توقع ہے جبکہ مجموعی معاشی استحکام بھی برقرار رہے گا۔وزارتِ خزانہ کی جون 2026 کی ماہانہ اقتصادی جائزہ و پیش گوئی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں معاشی استحکام بڑی حد تک حاصل کیے جانے کے بعد ملکی معیشت آئندہ مالی سال میں بھی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مضبوط ہوتے معاشی اشاریے، بڑے صنعتی شعبے کی توسیع، زرعی شعبے کی بہتر کارکردگی، مالیاتی نظم و ضبط اور بیرونی کھاتوں میں استحکام مثبت معاشی منظرنامے کی بنیاد ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی سے بین الاقوامی منڈیوں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں حالیہ کمی سے پاکستان کو درآمدی مہنگائی میں کمی، ایندھن اور نقل و حمل کے اخراجات میں کمی اور تیل کی درآمدی لاگت گھٹنے کی صورت میں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے جس سے مجموعی معاشی استحکام کو تقویت ملے گی۔وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ محتاط معاشی پالیسیاں، مسلسل مالیاتی نظم و ضبط اور پیداواری شعبوں کی ہدفی معاونت آئندہ بھی اقتصادی ترقی اور مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
حکومت کے مطابق جاری ساختی اصلاحات اور ذمہ دارانہ مالیاتی انتظام سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا اور کاروباری ماحول بہتر بنے گا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے بیرونی شعبے کے امکانات بھی نمایاں طور پر بہتر ہوئے ہیں۔ مئی 2026 کے دوران ریکارڈ ترسیلاتِ زر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات میں مسلسل اضافے سے ادائیگیوں کے توازن کو تقویت ملے گی، زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوں گے اور بیرونی معاشی دبا سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔وزارتِ خزانہ کے مطابق عالمی توانائی کی قیمتوں میں کمی سے مہنگائی کے دبا میں بھی کمی آنے کا امکان ہے جبکہ توانائی کی درآمدات پر بوجھ کم ہونے سے لاگت کے باعث پیدا ہونے والی مہنگائی پر قابو پانے اور مالی سال 2026-27 کے دوران ملکی اقتصادی سرگرمیوں کو سہارا دینے میں مدد ملے گی۔عالمی صورتحال کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی بینک نے 2026 کے لیے عالمی اقتصادی شرح نمو 2.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے تاہم اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھا، تجارتی پالیسیوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق خطرات بدستور موجود ہیں۔ اس کے باوجود مئی کے دوران صنعتی سرگرمیوں میں توسیع اور مضبوط طلب کے باعث عالمی معاشی بحالی کا عمل جاری رہا۔رپورٹ کے مطابق جے پی مورگن گلوبل کمپوزٹ پی ایم آئی آٹ پٹ انڈیکس مئی میں 51.8 پر مستحکم رہا جو عالمی اقتصادی سرگرمیوں میں مسلسل توسیع کی نشاندہی کرتا ہے۔
صنعتی شعبے نے بحالی میں نمایاں کردار ادا کیا جبکہ خدمات کے شعبے میں بھی معتدل بہتری ریکارڈ کی گئی۔وزارتِ خزانہ نے مزید کہا کہ خوراک کی عالمی قیمتوں کے اشاریے میں معمولی کمی اور خام تیل کی قیمتیں گرنے سے توانائی کے عالمی اشاریے میں نمایاں کمی آئی ہے جس سے پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو مہنگائی اور بیرونی مالی ضروریات کے حوالے سے مزید ریلیف ملنے کی توقع ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی اہم برآمدی منڈیوں میں اقتصادی سرگرمیاں طویل مدتی رجحانات کے مطابق برقرار ہیں جس سے ملکی برآمدات کی بیرونی طلب مستحکم رہنے کا امکان ہے۔ داخلی اصلاحات اور کاروباری اعتماد میں بہتری کے ساتھ یہ عوامل برآمدات، سرمایہ کاری اور مجموعی معاشی ترقی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔وزارتِ خزانہ کے مطابق پاکستان مالی سال 2026-27 میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط معاشی بنیادوں، بہتر مالیاتی و بیرونی توازن اور زیادہ مستحکم سرمایہ کاری ماحول کے ساتھ داخل ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی اصلاحات کے تسلسل، عالمی توانائی کی قیمتوں کے سازگار رجحان اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد سے آئندہ مالی سال میں بلند معاشی نمو اور مجموعی معاشی استحکام برقرار رہنے کی توقع ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک