i آئی این پی ویلتھ پی کے

اجسٹکس شعبے کا بندرگاہوں پر رش کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ: ویلتھ پاکستانتازترین

January 14, 2026

لاجسٹکس اور سپلائی چین کے شعبے نے ملک کی بڑی بندرگاہوں پر جاری شدید بھیڑ کو کم کرنے کے لئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ شعبے کے نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ طویل تاخیر سے تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، اخراجات بڑھ رہے ہیں اور علاقائی و عالمی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقت کمزور ہو رہی ہے۔صنعتی حلقوں کے مطابق اہم بندرگاہوں پر بھیڑ خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ جہازوں کو طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے، مال کی کلیئرنس سست ہے اور بندرگاہی اداروں کے درمیان رابطے کی کمی کے باعث سامان کی نقل و حرکت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ اس صورتحال کا بوجھ درآمد کنندگان، برآمد کنندگان اور لاجسٹکس خدمات فراہم کرنے والوں پر پڑ رہا ہے۔نمائندوں کا کہنا ہے کہ بندرگاہوں پر بھیڑ کی بڑی وجوہات میں سامان کی مقدار میں اضافہ، محدود بنیادی ڈھانچہ، پرانے ہینڈلنگ آلات اور طریقہ کار کی خامیاں شامل ہیں۔ موسمی تجارتی دبا واور خراب موسم نے بھی مسئلے کو مزید بڑھا دیا ہے جس کے اثرات پوری سپلائی چین پر پڑ رہے ہیں۔فلیٹ آپریٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے وائس چیئرمین حیدر رفیق نے ویلتھ پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لاجسٹکس شعبہ بندرگاہی ناکامیوں کا سب سے زیادہ نقصان اٹھا رہا ہے۔

جب جہاز طویل عرصے تک لنگر انداز رہتے ہیں اور کنٹینرز ٹرمینلز پر پھنسے رہتے ہیں تو اضافی اخراجات بالآخر کاروبار اور صارفین کو برداشت کرنا پڑتے ہیں جس سے ہماری علاقائی مسابقت کمزور ہوتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ بھیڑ نے اندرون ملک لاجسٹکس کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ ٹرکوں کو بندرگاہوں میں داخلے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے جس سے ایندھن اور دیگر اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ بندرگاہوں کے قریب مناسب پارکنگ اور انتظار کی سہولتوں کی کمی نے آس پاس کے شہری علاقوں میں ٹریفک کے مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔صنعتکاروں نے بھی جہازرانی کے شیڈول متاثر ہونے اور وقت کے لحاظ سے حساس سامان کے خراب ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان اپیرل فورم کے سرپرست اعلی جاوید بلوانی نے کہا کہ معمولی تاخیر بھی مالی نقصان اور خریداروں کے اعتماد میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کنٹینرز طویل عرصے تک کلیئر نہ ہونے کی وجہ سے درآمد کنندگان کو اضافی ڈیمرج اور ڈیٹینشن چارجز ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔لاجسٹکس شعبے نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے جامع اور مربوط حکمت عملی اپنائی جائے۔

اہم تجاویز میں بندرگاہوں کی جدید کاری کے منصوبوں کو تیز کرنا، ٹرمینلز کی گنجائش بڑھانا اور جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانا شامل ہیں تاکہ سامان کی ہینڈلنگ اور دستاویزی کارروائی آسان ہو سکے۔ صنعت کے رہنماں نے شپنگ لائنز، ٹرمینل آپریٹرز، کسٹمز اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان خودکار نظام اور فوری معلومات کے تبادلے پر زور دیا ہے تاکہ وقت کی بچت ہو۔اس کے علاوہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان بہتر رابطے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ بندرگاہوں سے باہر سامان کی ترسیل آسان بنائی جا سکے۔ ریلوے رابطوں میں بہتری اور اندرون ملک آبی راستوں کی ترقی کو بھی سڑکوں پر دباو کم کرنے کے بہتر ذرائع قرار دیا گیا ہے۔ بندرگاہوں کے قریب آف ڈاک کنٹینر یارڈز اور لاجسٹکس پارکس قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔صنعتی نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بندرگاہوں کی بھیڑ کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو اس سے پاکستان کی تجارتی مسابقت مزید متاثر ہوگی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سپلائی چین پہلے ہی دباو کا شکار ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک