i آئی این پی ویلتھ پی کے

ای وی چارجنگ اسٹیشنز میں سرمایہ کاری کے لئے17 کمپنیاں تیار: ویلتھ پاکستانتازترین

January 13, 2026

سترہ کمپنیوں نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے انتظامی کنٹرول میں آنے والی سڑکوں کے ساتھ الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز لگانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔وزارتِ صنعت و پیداوار کے ایک سینئر افسر نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ قومی الیکٹرک وہیکل پالیسی کے اعلان کے فورا بعد کئی کمپنیوں نے ملک بھر میں ای وی چارجنگ اسٹیشنز لگانے کے لیے وزارت سے رابطہ کیا۔وزارتِ صنعت و پیداوار کے ایڈیشنل سیکریٹری آصف سعید خان نے ویلتھ پاکستان کو بتایاکہ ہم نے ان تمام فریقین کو اس منصوبے میں سنجیدگی سے دلچسپی لیتے ہوئے پایا ہے۔اب تک وزارت کو 17 کمپنیوں کی جانب سے باضابطہ طور پر سرمایہ کاری کی آمادگی موصول ہو چکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایک اعلی سطحی اجلاس بھی ہواجس میں این ایچ اے کے ممبر انجینئرنگ و کوآرڈینیشن اور وزارتِ مواصلات کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران این ایچ اے کے حکام کو کمپنیوں کی سرمایہ کاری کی خواہش سے آگاہ کیا گیا۔

ان کے مطابق تمام متعلقہ فریقین نے اس منصوبے پر عملی کام شروع کرنے پر اتفاق کیا۔اس وقت دستیاب معلومات کے مطابق ملک کی زیادہ تر موٹرویز اور ہائی ویز پر ای وی چارجنگ اسٹیشنز موجود نہیں ہیں۔ای وی چارجنگ اسٹیشنز لگانے میں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں میں ای وی پلگ ایکس، یوسف دیوان کمپنیز،ای وی چارجرز ، الباریو انجینئرنگ گروپ، ملک انٹرپرائزز، فلیش چارجنگ نیٹ ورک، اٹک پیٹرولیم اور حبکو گرین شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ماحول دوست اور صاف ٹرانسپورٹ کے فروغ کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے تاہم ابھی یہ تعداد محدود ہے اور سڑکوں پر صرف چند ہزار ای ویز چل رہی ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ حکومتی پالیسیاں اور بجلی کے کم نرخ خریداروں اور سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ہیں لیکن ابتدائی لاگت زیادہ ہونے اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کے باعث ای وی کا وسیع پیمانے پر استعمال سست روی کا شکار ہے۔

اس وقت چارجنگ کا بنیادی ڈھانچہ بہت محدود ہیاور صرف چند درجن لیول-2 پبلک چارجنگ پوائنٹس بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں، نیز کچھ موٹرویز پر موجود ہیں۔اس کمی کو مدِنظر رکھتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکام ہر 50 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک چارجنگ اسٹیشن لگانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جبکہ 2030 تک ملک بھر میں ہزاروں اسٹیشنز لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔حکومت کی مجموعی حکمتِ عملی کے تحت 2030 تک مرحلہ وار تقریبا 3,000 ای وی چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں گیجنہیں نجی شعبے کے شراکت دار تعمیر اور چلائیں گے۔یہ توسیع رینج اینگزائٹی یعنی یہ خوف کہ گاڑی کی بیٹری منزل یا چارجنگ اسٹیشن تک پہنچنے سے پہلے ختم نہ ہو جائے کو کم کرنے میں مدد دے گی، شہروں کے درمیان طویل سفر کو ممکن بنائے گی اور پاکستان میں روزمرہ استعمال کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کو زیادہ عملی بنائے گی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک