آئی این پی ویلتھ پی کے

مالی سال 2024-25 میں کپاس کی پیداوار قومی ہدف سے کم رہی،ویلتھ پاکستان

June 08, 2026

مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان میں کپاس کی پیداوار مقررہ قومی ہدف حاصل نہ کر سکی تاہم سندھ نے کاشت اور پیداوار کے شعبے میں نسبتا بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جبکہ بلوچستان محدود رقبے کے باوجود پیداوار کی شرح کے اعتبار سے نمایاں رہا۔ یہ انکشاف وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ 25-2024 میں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں کپاس کی کاشت 20 لاکھ 43 ہزار ہیکٹر رقبے پر کی گئی جو 31 لاکھ 18 ہزار ہیکٹر کے مقررہ ہدف کا 66 فیصد ہے۔ اسی طرح کپاس کی مجموعی پیداوار 70 لاکھ 84 ہزار گانٹھیں رہی جبکہ ہدف ایک کروڑ 8 لاکھ 74 ہزار گانٹھوں کا مقرر کیا گیا تھا، یوں قومی سطح پر پیداوار کا ہدف صرف 65 فیصد حاصل ہو سکا۔پنجاب بدستور ملک کا سب سے بڑا کپاس پیدا کرنے والا صوبہ رہا۔ صوبے میں کپاس کی کاشت 13 لاکھ 4 ہزار ہیکٹر رقبے پر ہوئی جو مقررہ ہدف کا 78 فیصد ہے۔ تاہم پیداوار توقعات سے خاصی کم رہی اور صوبہ 65 لاکھ گانٹھوں کے ہدف کے مقابلے میں صرف 38 لاکھ 38 ہزار گانٹھیں پیدا کر سکا، جو ہدف کا 59 فیصد بنتا ہے۔سندھ نے صوبوں میں نسبتا بہتر کارکردگی دکھائی۔ صوبے میں 6 لاکھ 30 ہزار ہیکٹر کے ہدف کے مقابلے میں 5 لاکھ 82 ہزار ہیکٹر رقبے پر کپاس کاشت کی گئی، یوں کاشت کا 92 فیصد ہدف حاصل ہوا۔ پیداوار 39 لاکھ گانٹھوں کے ہدف کے مقابلے میں 28 لاکھ 23 ہزار گانٹھیں رہی، جو 72 فیصد کامیابی کی شرح کو ظاہر کرتی ہے۔

بلوچستان نے محدود کاشتی رقبے کے باوجود بہترین پیداواری استعداد کا مظاہرہ کیا۔ صوبے میں ایک لاکھ 57 ہزار ہیکٹر پر کپاس کاشت کی گئی جبکہ ہدف 8 لاکھ 8 ہزار ہیکٹر تھا۔ اس کے باوجود پیداوار 4 لاکھ 23 ہزار گانٹھیں رہی جو 4 لاکھ 73 ہزار گانٹھوں کے ہدف کا 89 فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان کی بہتر فی ایکڑ پیداوار نے قومی سطح پر پیداوار میں کمی کے اثرات کسی حد تک کم کرنے میں مدد دی۔خیبر پختونخوا میں کپاس کی کاشت اور پیداوار کا حصہ بدستور محدود رہا۔ صوبے میں کپاس نہایت کم رقبے پر کاشت کی گئی جبکہ پیداوار بھی مقررہ ہدف سے خاصی کم رہی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ نے کاشت اور پیداوار دونوں شعبوں میں نسبتا بہتر کارکردگی دکھائی، اگرچہ وہ بھی مکمل ہدف حاصل نہ کر سکا۔ دوسری جانب پنجاب کپاس کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہونے کے باوجود پیداواری اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔سالانہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران کپاس کی قیمتوں میں مجموعی طور پر استحکام دیکھا گیا۔ پھٹی کی اوسط قومی قیمت 8 ہزار 138 روپے فی 40 کلوگرام رہی۔ اگست 2024 میں قیمت 7 ہزار 543 روپے فی 40 کلوگرام کی کم ترین سطح پر رہی جبکہ فروری 2025 میں بڑھ کر 8 ہزار 538 روپے فی 40 کلوگرام تک پہنچ گئی۔

پنجاب میں پھٹی کی سالانہ اوسط قیمت 8 ہزار 576 روپے فی 40 کلوگرام ریکارڈ کی گئی، جبکہ فروری 2025 میں قیمت 9 ہزار 400 روپے فی 40 کلوگرام کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔ سندھ میں اوسط قیمت 7 ہزار 701 روپے فی 40 کلوگرام رہی۔اسی دوران روئی کی اوسط قیمت 18 ہزار 994 روپے فی 40 کلوگرام ریکارڈ کی گئی۔ ستمبر 2024 میں روئی کی قیمت 19 ہزار 743 روپے تک پہنچی، بعد ازاں دسمبر میں کم ہو کر 18 ہزار 230 روپے رہ گئی، جبکہ جنوری 2025 میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا۔رپورٹ کے مطابق کپاس کی قیمتوں میں اتار چڑھا پر مقامی ٹیکسٹائل صنعت کی طلب، موسمی رسد اور عالمی منڈیوں کے رجحانات اثرانداز رہے۔رپورٹ میں ملتان کے مرکزی ادارہ تحقیقِ کپاس کی خدمات کو بھی سراہا گیا۔ 1970 میں قائم ہونے والے اس ادارے نے کپاس کی تحقیق، افزائشِ نسل، جینیاتی بہتری، کیڑوں اور بیماریوں کے تدارک، ریشے کے معیار میں بہتری اور جدید پیداواری ٹیکنالوجی کے فروغ کے شعبوں میں پانچ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط تحقیق مکمل کی ہے۔ادارے نے اب تک کپاس کی 38 اعلی اقسام متعارف کرائی ہیں جن میں جلد تیار ہونے والی، گرمی اور خشک سالی برداشت کرنے والی، بیماریوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی اور بہتر معیار کے ریشے پیدا کرنے والی اقسام شامل ہیں۔ ادارہ کسانوں، طلبہ، محققین اور زرعی توسیعی عملے کو تربیت اور فنی معاونت بھی فراہم کر رہا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک